تعارف:
مسلم
مذہبی افکار پر فصاحت اور بلاغت سے بیان کرنے میں ان کی شراکت کی وجہ سے حضرت
گیسودراز ، چشتی سلسلہ کی تاریخ میں انوکھے مقام پر فائز ہیں۔ انہوں نے دکن میں دینی علوم کو ایک نئی نوید عطا کی۔ حضرت
دکن میں اسلامی عرفان کی ابتدائی تاریخ کی سب سے نمایاں شخصیت ہیں ۔
خواجہ
بندہ نواز صدرالدین ابوالفتح سید محمد حسینی المعروف گیسودراز کی ولادت با سعادت 30 جنوری 1321 ء بمطابق 4 رجب
721 ہجری کو ہوئی ۔
خراسان
میں آپ کے آباو اجداد "لمبے بالوں والے سید" کے نام سے مشہور تھے۔ اس طرح انہوں نے ہندوستان میں بھی گیسو دراز (لفظی معنی لمبےبالوں والے ) کی کنیت برقرار رکھی۔ حضرت کو
بندہ نواز کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
جب
محمد بن تغلق نے اپنا دارالحکومت دہلی سے دولت آباد میں سن 1327 ء میں منتقل کیا۔
حضرت گیسودراز کو بھی 7 سال کی عمر میں
دولت آباد لے جایا گیا ۔
آپ
کے والد سید یوسف حسینی کا انتقال سن 1330 ء / 731 ھ میں ہوا جب حضرت گیسودراز صرف
10 سال کے تھے۔ کچھ زمانے کے بعد وہ اپنے اہل خانہ سمیت دہلی واپس آگئے۔
حضرت
گیسودراز نے شیخ نصیرالدین محمود چراغ دہلوی
کے ارادت اختیار فرمائی ۔ 757 ھ / 1356 ء
میں خواجہ بندا نواز نے 36 سال کی عمر میں شیخ نصیرالدین محمود سے اجازت و خلافت
پائی ۔ اسی سال حضرت شیخ نصیرالدین شدید بیمار ہوئے اور 14 ستمبر 1356 ء کو وفات پائی۔
چالیس
سال کی عمر میں خواجہ بندہ نواز نےسیدہ بی بی رضا خاتون سے نکاح فرمایا ۔ آپ کے دو بیٹے اور
تین بیٹیاں تھیں۔بڑے بیٹے سید اکبر حسینی اور چھوٹے بیٹاےسید اصغر حسینی تھے۔ سنہ 1398 ء میں حضرت اور آپ کے اہل خانہ دولت
آباد پہنچے۔ جب سلطان فیروزشاہ بہمنی نے خواجہ گیسودراز کی دولت آبادآمد کا سناتو تاج الدین فیروز شاہ نے آپ کو گلبرگہ میں مدعو کیا۔ خواجہ بندہ نواز 19 مئی
1400 ء کو گلبرگہ پہنچے جس وقت آپ کی عمر شریف قریب 80 برس
تھی ، اور 22 سال تک یہاں قیام فرمایا۔
فیروز
شاہ بہمنی نے ان کا والہانہ استقبال کیا اور اپنی خانقاہ کے اخراجات کے لئے کچھ
گاؤں تفویض کردیئے۔
خواجہ
گیسودراز ایک بلند پایہ عالم اور شاعر تھے
گیسودراز کی تصانیف کو عام طور پر
چار قسموں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔
الف : شروحات ،
ب: آزادانہ کتب
پ: ادبی کتب
ت: متفرقات
آپ نے تقریباً 100 سے زائد کتابیں تحریر فرمائیں جن میں سے
چند مشہور کتب درگ ذیل ہیں :
1. تفسیر الملتقط
2. اسمار الآسار
3.
حجائرالقدس
4. جوامع الکلم
5. انیس العاشقاں
6. مکتوبات
7. معراج العاشقین
8. شیکھر نامہ
9. چکی نامہ
آپ نے متعدد نثروں کی تصنیف کی اور ان کی منسوب نظموں میں سب سے اہم معراج العاشقین ہے جو تصوف پر ایک عظیم خزانہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ گلبرگہ ہی تھا کہ قدیم اردو کی پہلی مرتب اپنے وقت کے عظیم مسلمان صوفی نے پیش کی تھی۔
انتہائی
قابل ذکر چشتی بزرگ شیخ نصیرالدین چراغ
دہلوی جنہوں نے محمد بن تغلق کے دولت آباد ہجرت کے
احکامات کی تعریف کی تھی اور وہ ان لوگوں کو اخلاقی اور روحانی تعلیم فراہم کرنے
میں صرف کررہے تھے جو بڑی تعداد میں ان کے خانقاہ پر گامزن تھے۔ خواجہ گیسودراز نے
علوم ظاہری کی تکمیل کے بعد آپ کی صحبت اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ۔ اور برسوں تک
اپنی پیر کامل کی خدمت انجام دی اور آپ سےچشتیہ سلسلہ کے روحانی فیوض و برکات حاصل
فرمائی اور انسانیت کی روحانی بلندی کے لئے اپنی زندگی کو وقف فرمادیا۔
خواجہ بندہ نواز 1422ء بمطابق 825ھ میں گلبرگہ شریف میں واصل حق تعالیٰ ہوئے ، مزار پر انوار آج بھی مرجع خلائق بنا ہوا ہے۔

No comments:
Post a Comment