Thursday, 9 July 2020

بندگی مخدوم حضرت ابوالفتح صدرالدین سید محمدحسینی خواجہ گیسودرازبندہ نواز رحمۃ اللہ علیہ اور تصوف

چشتی سلسلہ کی بر صغیر پاک و ہند میں ابتدا ء خواجہء خواجگان معین الدین سنجری اجمیری رحمتہ اللّد علیہ کی پاک ذات  سے ہوئی  آپ کے جانشینوں نے سلسلہ چشتیہ کی ترویج و اشاعت  میں جو کوششیں فرمائیں وہ تاریخ کے صفحات پر ثبت ہیں۔ آپ کےبعد مشائخ چشت میں  نامور بزرگ   سید محمد گیسودراز بندہ نواز  نے دکن کی   سرزمین میں پہنچ کر اپنی  روحانی عظمتوں کا لوہا منوالیااور آپ کی ذات با برکت سے سلسلہ چشت کو دکن میں بڑا  فر وغ حاصل ہوا اور الحمدللہ آج تک جاری ہے اورآگے بھی اس سلسلہ کی برکات جاری و ساری ہونگی انشاءاللہ ۔تصوف سارے کا سارا اخلاق عالیہ کا نام ہے  صوفیہ کو اللہ  تعالٰی نے باطن کی جو صفائی نصیب کی ہوتی ہے اسکا عملی اظہار انکے اخلاق، کردار، رویہ، طرز زندگی اور انکے انداز معاشرت سے ہوتا ہے۔ یہ انتہائی صالح وجود ہوتے ہیں۔ عفو و در گذر، محبت، صلہ رحمی یہ اولیا کے وجود کا حصہ ہے۔ تصوف کا آغاز علم سے ہے اسکا درمیان عمل خالص جو کہ بندے کے اختیار میں ہے اسکی  انتہا اللہ کی جانب سے نوازش و انعام جو کہ قرب الہی ہے۔

آپ صوفی باکمال تھے  آپ فرماتے ہیں کہ صوفی کی نیند ایسی ہونی چاہیے جس کی نسبت وارد ہے کہ حضور  ﷺ کا ارشاد ہے کہ میری آنکھیں سوتی ہیں اور میرا دل نہیں سوتا۔خواجہ صاحب  فرمایا کرتے تھے کہ دنیا میں طلبگار قبر میں مردار اور آخرت میں شرمسارنہ ہونا۔(خاتمہ،ترجمہ آدالمریدین ص 92) آپ فرماتے ہیں کہ مرید کے لئے پیر سے غافل رہنا بڑی محرومی ہے۔ ایک مریدہر و قت پیر کی یاد میں مشغول رہے پیر کا نام ہر وقت زبان پر ہو  پیر کی مجلس کو مجلس حق تصور کرے رفتار، گفتار، وضع قطع میں اس کا اتباع ضروری ہے۔ اسکا ایک حکم بجا لانے سے مریدایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے جہاں  وہ سو سال کی عبادت سے نہیں پہنچ سکتاہے اور ایک مرید حقیقت و طریقت کو شریعت کی ضد نہ سمجھے۔ (یاذدہ ء رسائل ص 73)۔

  اللہ ہم سب کو خواجہ گیسودراز کے صدقے کامل ایمان نصیب فرمائے۔ دنیا اور آخرت کی رسوائی سے بچائے عمل خالص عطا فرمائے ہر قسم کے شرک سے بچائے  سرورکونین ﷺ کی سنتوں پر چلنے والا بنائے کہ سنت پر عمل سے مولا کی محبت ملتی ہے آخر میں دعا ہے کہ اے اللہ ہم دنیا میں رہیں لیکن دنیا ہمارے اندر نہ رہے۔ آمین

No comments:

Post a Comment

تاریخ کے مطالعے کے ذرائع

تاریخ کا مطالعہ کرنے کے لیے ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ تاریخ کا وسیع علم کس طرح جمع اور پیش کیا جا رہا ہے۔  تاریخ کے مطالعہ کے...