Thursday, 9 July 2020

تعلیمات بندہ نواز


ہر سال کی طرح امسال بھی 16 ذی القعدہ کو شہنشاہ دکن ، بندگی مخدوم حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو دراز بلند پرواز رحمۃاللہ علیہ کا عرس پاک منایا گیا۔ فرق اتنا تھا کہ ہر سال ہزاروں عقیدتمند آپ کی بارگاہِ ناز میں حاضر ہوکراپنی غلامی   پیش کرتے لیکن اس دفعہ موذی وبا کورونا  وائرس کی وجہ سے سوائے خانوادہِ بندہ نواز اور خدام کے علاوہ کسی کو اجازت نہیں تھی۔ لیکن غلامان بندہ نواز نے اپنے اپنے گھروں پر آپ کی بارگاہ میں خراج عقید ت وغلامی پیش کیا۔ اس کے علاوہ بہت بڑی تعداد نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعہ اپنی غلامی کا اظہار کیا ۔ ہم نے بارہا سنا ہے کہ بندگی مخدوم اردو  زبان کے بانیان میں سے ہیں اور آپ کی تعلیمات 100 سے زائد کتب میں محفوظ ہے یہ بہت سے فضائل کے علاوہ آپ ہی کا طرہ امتیاز ہے۔ کیا ٖغلامان  بندہ نواز کا یہ فریضہ نہیں تھا کہ  عرس پاک منانے کے ساتھ ہم اپنے آقا کی ان تعلیمات پر خودعمل کرتے  اور کو دنیا کےسامنے  پیش کرتے ۔ افسوس کہ آج نوجوانان امت کی اکثریت نہ تو ان کتب سے ہی واقف ہے بلکہ ان کتب کثیرہ میں سے 5-10 کتب کے نام  سے  بھی واقف نہیں ہے چہ جائیکہ ان میں موجود تعلیمات اور اسرار و معارف کو سمجھ کر ان پر عمل کرے اور ان بیش بہا قیمتی تعلیمات کو دنیا کے سامنے پیش کرکے اپنی حقیقی غلامی کا ثبوت دے۔

اس سال 616 ویں عرس پاک  اور آپ کی تاریخ وفات 16 ذی القعدہ کی نسبت سے آپ کے خزینہِ تعلیمات سے 16 باتیں درج ذیل میں پیش کی جاتی ہیں  امید ہے 

کہ قارئین پڑھیں گے اور عمل کرکے عام کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اپنی حقیقی غلامی کا ثبوت پیش کریں گے:

1.  جو دائم باوضو رہتا ہے اس میں ایک چمک اور روشنی ہوتی ہے

2.کھانا جو سالکین کھاتے ہیں اور پانی پیتے ہیں ، ہر گھونٹ اور ہر نوالہ پر کم از کم ایک مرتبہ بسم اللہ کہتے ہیں ، بعض تو ہر لقمہ پر سورہ فاتحہ پوری پڑھتے ہیں

 3. صوفی جو نیند میں ہو اس کو یہ ضروری   ہے کہ اپنے وجود کی خبر ہونی چاہئے

4. جس مقام پر پِیر بیٹھا کرتے ہیں اس مقام کا بھی احترام کرنا چاہئے اور اس جگہ پر نہیں بیٹھنا چاہئے

5. ذکر خفی اس کو کہتے ہیں جو دل سے کیا جائے

6. حسن عاقبت اور خاتمہ بالخیر تمام مہموں میں ایک اہم تر مہم  اور تمام مرادوں میں عزیز ترین مراد  ہے

7. جب آئینہ دل طبیعت کے زنگ اور بشریت کی ظلمت سے پاک و صاف ہوجاتا ہے تو اس میں انوار غیبی کے قبول کرنے کی صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے

8.  عقل مردوں کے لئے ایک بیش قدر چیز ہے مگر عشق وہ شئے ہے جو بڑے بڑے قلعے اور پہاڑوں کی اونچی اونچی چوٹیاں آناً فاناً میں فتح کردیتا ہے۔ عقل کہتی ہے کہ خطرہ میں  مت پڑو مگر عشق کہتا ہے کہ تم پروا ہی مت کرو 

9.   دنیا کے جاہ و دولت اور مال و کمنت ایک بجلی کی چمک اور بادل کے چلتے پھرتے سایہ کی طرح ہے ۔ بجلی کبھی چمکی کبھی ڈوبی ، کبھی آئی ، کبھی گئی اس کا کوئی اعتبار نہیں ۔ ایسی وہمی چیز سے کیا دل لگایا جائے ۔ کھاری مٹی میں کیا بویا جائے۔ پانی پر کیا نقش جمایا جائے اس میں نہ بھلائی  کی کوئی امید ہے اور نہ کامیابی کی!

10. وہ شئے جس کی طلب سب سے زیادہ کرنی چاہئے اور وہ مقصد و مراد جو سب سے زیادہ پیاری اور اہم شئے ہے "معرفت الٰہی " ہے۔ جس نے اپنے آپ کو نہیں پہچانا اس نے خدا کو بھی نہیں پہچانا اور ہلاکت کے غار میں گِرا

11.نماز ایک عبادت ہے اور تلاقت قرآن مستحب و مستحسن ہے ۔ لیکن جو کوئی بغیر نہائے ناپاکی میں بے وضو پڑھے گا یا تلاوت قرآن کریگا عقوبت و عذاب کا مستحق ہوگا  

12. تزکیہ نفس کم کھانے ، کم سونے ، کم بولنے اور کم ملنے جلنے سے حاصل ہوتا ہے

13.ہر مسلمان مرد و عورت پر علم کا طلب کرنا فرض ہے ، علم کے ساتھ اگر عمل نہ ہوتو وہ علم عقیم (بانجھ) ہے اور اگر عمل کے ساتھ علم نہ ہو تو وہ علم سقیم (بیمار) ہوگا۔

14. آپ ﷺ کے اتباع کے فضل و شرف نے امت کو کہاں سے کہاں تک پہنچادیا ۔اہل چشت کے اس باغ سے جس نے پھل کھائے اتباع کرنے ہی سے کھائے

15. اس قدر عمر گزر گئی ۔ نفس کی خدمت جو کرتے رہے اس سے کیا نقد نصیب ہوا۔ آج سب کچھ تمہارے لئے ممکن اور قریب الوصول ہے کل یہ بات نہ ہوگی

16. عمر کی چند سانسیں جو باقی رہ گئی ہیں انھیں غنیمت سمجھو اور غیر حق سے جو آنی و فانی ہے دل کو  ہٹالو اور لوگوں سے ملنا جلنا کم کردو۔

 بحوالہ : شرح آداب المریدین و  مکتوبات شریف) )


9th July in Our Indian History


To join our other platforms please visit below links 
*OUR INDIAN HISTORY*

*YouTube* : https://www.youtube.com/channel/UC9v9dupwU4d0Cd7CHNvphrQ?view_as=subscriber
*Blogspot* : https://ourindianhistory712.blogspot.com/
*Facebook* : https://www.facebook.com/ourindianhistory712/
*Instagram* : https://www.instagram.com/ourindianhistory/
*Twitter* : https://twitter.com/our_indian
*Telegram* : https://t.me/ourindianhistory
*WhatsApp* : 9019934229 / 8884538516 

🤝🤝🤝🤝🤝🤝🤝🤝🤝

بندگی مخدوم حضرت ابوالفتح صدرالدین سید محمدحسینی خواجہ گیسودرازبندہ نواز رحمۃ اللہ علیہ اور تصوف

چشتی سلسلہ کی بر صغیر پاک و ہند میں ابتدا ء خواجہء خواجگان معین الدین سنجری اجمیری رحمتہ اللّد علیہ کی پاک ذات  سے ہوئی  آپ کے جانشینوں نے سلسلہ چشتیہ کی ترویج و اشاعت  میں جو کوششیں فرمائیں وہ تاریخ کے صفحات پر ثبت ہیں۔ آپ کےبعد مشائخ چشت میں  نامور بزرگ   سید محمد گیسودراز بندہ نواز  نے دکن کی   سرزمین میں پہنچ کر اپنی  روحانی عظمتوں کا لوہا منوالیااور آپ کی ذات با برکت سے سلسلہ چشت کو دکن میں بڑا  فر وغ حاصل ہوا اور الحمدللہ آج تک جاری ہے اورآگے بھی اس سلسلہ کی برکات جاری و ساری ہونگی انشاءاللہ ۔تصوف سارے کا سارا اخلاق عالیہ کا نام ہے  صوفیہ کو اللہ  تعالٰی نے باطن کی جو صفائی نصیب کی ہوتی ہے اسکا عملی اظہار انکے اخلاق، کردار، رویہ، طرز زندگی اور انکے انداز معاشرت سے ہوتا ہے۔ یہ انتہائی صالح وجود ہوتے ہیں۔ عفو و در گذر، محبت، صلہ رحمی یہ اولیا کے وجود کا حصہ ہے۔ تصوف کا آغاز علم سے ہے اسکا درمیان عمل خالص جو کہ بندے کے اختیار میں ہے اسکی  انتہا اللہ کی جانب سے نوازش و انعام جو کہ قرب الہی ہے۔

آپ صوفی باکمال تھے  آپ فرماتے ہیں کہ صوفی کی نیند ایسی ہونی چاہیے جس کی نسبت وارد ہے کہ حضور  ﷺ کا ارشاد ہے کہ میری آنکھیں سوتی ہیں اور میرا دل نہیں سوتا۔خواجہ صاحب  فرمایا کرتے تھے کہ دنیا میں طلبگار قبر میں مردار اور آخرت میں شرمسارنہ ہونا۔(خاتمہ،ترجمہ آدالمریدین ص 92) آپ فرماتے ہیں کہ مرید کے لئے پیر سے غافل رہنا بڑی محرومی ہے۔ ایک مریدہر و قت پیر کی یاد میں مشغول رہے پیر کا نام ہر وقت زبان پر ہو  پیر کی مجلس کو مجلس حق تصور کرے رفتار، گفتار، وضع قطع میں اس کا اتباع ضروری ہے۔ اسکا ایک حکم بجا لانے سے مریدایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے جہاں  وہ سو سال کی عبادت سے نہیں پہنچ سکتاہے اور ایک مرید حقیقت و طریقت کو شریعت کی ضد نہ سمجھے۔ (یاذدہ ء رسائل ص 73)۔

  اللہ ہم سب کو خواجہ گیسودراز کے صدقے کامل ایمان نصیب فرمائے۔ دنیا اور آخرت کی رسوائی سے بچائے عمل خالص عطا فرمائے ہر قسم کے شرک سے بچائے  سرورکونین ﷺ کی سنتوں پر چلنے والا بنائے کہ سنت پر عمل سے مولا کی محبت ملتی ہے آخر میں دعا ہے کہ اے اللہ ہم دنیا میں رہیں لیکن دنیا ہمارے اندر نہ رہے۔ آمین

Wednesday, 8 July 2020

حضرت خواجہ بندہ نواز گیسودراز رحمۃاللہ علیہ 1321-1422ء

تعارف:

مسلم مذہبی افکار پر فصاحت اور بلاغت سے بیان کرنے میں ان کی شراکت کی وجہ سے حضرت گیسودراز ، چشتی سلسلہ کی تاریخ میں انوکھے مقام پر فائز ہیں۔ انہوں  نے دکن میں دینی علوم کو ایک نئی نوید عطا کی۔ حضرت دکن میں اسلامی عرفان کی ابتدائی تاریخ کی سب سے نمایاں شخصیت ہیں ۔

خواجہ بندہ نواز صدرالدین ابوالفتح سید محمد حسینی المعروف گیسودراز  کی ولادت با سعادت  30 جنوری 1321 ء بمطابق  4  رجب 721 ہجری کو ہوئی ۔

خراسان میں آپ  کے آباو  اجداد "لمبے بالوں والے  سید" کے نام سے مشہور تھے۔ اس طرح انہوں  نے ہندوستان میں بھی گیسو دراز (لفظی معنی  لمبےبالوں والے ) کی کنیت برقرار رکھی۔ حضرت کو بندہ نواز کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

جب محمد بن تغلق نے اپنا دارالحکومت دہلی سے دولت آباد میں سن 1327 ء میں منتقل کیا۔ حضرت  گیسودراز کو بھی 7 سال کی عمر میں دولت آباد لے جایا گیا ۔

آپ کے والد سید یوسف حسینی کا انتقال سن 1330 ء / 731 ھ میں ہوا جب حضرت گیسودراز صرف 10 سال کے تھے۔ کچھ زمانے کے بعد وہ اپنے اہل خانہ سمیت دہلی واپس آگئے۔

حضرت گیسودراز نے  شیخ نصیرالدین محمود چراغ دہلوی کے ارادت اختیار فرمائی  ۔ 757 ھ / 1356 ء میں خواجہ بندا نواز نے 36 سال کی عمر میں شیخ نصیرالدین محمود سے اجازت و خلافت پائی ۔ اسی سال حضرت شیخ نصیرالدین شدید بیمار ہوئے اور 14 ستمبر 1356 ء کو  وفات پائی۔

چالیس سال کی عمر میں خواجہ بندہ نواز نےسیدہ  بی بی رضا خاتون سے نکاح فرمایا ۔ آپ  کے دو بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں۔بڑے بیٹے سید اکبر حسینی اور چھوٹے بیٹاےسید اصغر حسینی تھے۔  سنہ 1398 ء میں حضرت اور آپ کے اہل خانہ دولت آباد پہنچے۔ جب سلطان فیروزشاہ بہمنی نے خواجہ گیسودراز کی دولت آبادآمد کا سناتو  تاج الدین فیروز شاہ نے آپ کو  گلبرگہ میں مدعو کیا۔ خواجہ بندہ نواز 19 مئی 1400  ء کو  گلبرگہ پہنچے جس وقت آپ کی عمر شریف قریب 80 برس تھی ،  اور 22 سال تک یہاں  قیام فرمایا۔

فیروز شاہ بہمنی نے ان کا والہانہ استقبال کیا اور اپنی خانقاہ کے اخراجات کے لئے کچھ گاؤں تفویض کردیئے۔

خواجہ گیسودراز ایک بلند پایہ عالم اور شاعر تھے

گیسودراز کی تصانیف کو عام طور پر چار قسموں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ 

الف : شروحات  ،

ب: آزادانہ کتب

پ: ادبی کتب

ت: متفرقات

آپ نے تقریباً 100 سے زائد کتابیں تحریر فرمائیں جن میں سے چند مشہور کتب درگ ذیل ہیں :

1. تفسیر الملتقط

2. اسمار الآسار

 3. حجائرالقدس

4. جوامع الکلم

5. انیس العاشقاں

6. مکتوبات

7. معراج العاشقین

8. شیکھر نامہ

9. چکی نامہ

 آپ نے  متعدد نثروں کی تصنیف کی اور ان کی منسوب نظموں میں سب سے اہم معراج العاشقین ہے جو   تصوف پر ایک عظیم خزانہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ گلبرگہ ہی تھا کہ قدیم  اردو کی پہلی مرتب اپنے وقت کے عظیم مسلمان صوفی  نے پیش کی تھی۔

انتہائی قابل ذکر چشتی بزرگ  شیخ نصیرالدین چراغ دہلوی   جنہوں نے محمد بن تغلق کے دولت آباد ہجرت کے احکامات کی تعریف کی تھی اور وہ ان لوگوں کو اخلاقی اور روحانی تعلیم فراہم کرنے میں صرف کررہے تھے جو بڑی تعداد میں ان کے خانقاہ پر گامزن تھے۔ خواجہ گیسودراز نے علوم ظاہری کی تکمیل کے بعد آپ کی صحبت اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ۔ اور برسوں تک اپنی پیر کامل کی خدمت انجام دی اور آپ سےچشتیہ سلسلہ کے روحانی فیوض و برکات حاصل فرمائی اور انسانیت کی روحانی بلندی کے لئے اپنی زندگی کو وقف فرمادیا۔

خواجہ بندہ نواز 1422ء بمطابق 825ھ میں گلبرگہ شریف میں واصل حق تعالیٰ ہوئے ، مزار پر انوار آج بھی مرجع خلائق بنا ہوا ہے۔  


Hazrat Khaja Banda Nawaz Gesu Daraz 1321-1422 AD


Introduction:

          Hazrath  Gesudaraz occupies unique places in the history of the Chishti silsilah on account of his contribution to the elucidation and exposition on Muslim religious thought. He gave a new filling to religious studies in the Deccan. One of the most prominent figure in the early history of Islamic mystic in the Deccan

            Khaja Banda Nawaz Sadruddin Abul Fateh Syed Muhammad Hussaini popularly known as Gesu Dararaz born on 30th July 1321 AD / 4th Rajab 721 AH.

His ancestors in Khurasan were popularly known as the “Sayyids with long locks”. Thus he retained his surname of Gesudaraz (literally long locks) in India also.

 Hazrat also known as Bandanawaz (one who comforts other human  beings).

When Muhammad bin Tughluq transferred his capital from Delhi to Daulatabad in the year 1327 A.D. Gesudaraz was also taken to Daulatabad at the age of 7 years and brought there.

His father Sayyid Yusuf Husayni died in the year 1330 AD / 731 AH when Hazrat Gesudaraz was only 10 years old. After some time he returned to Delhi along with his family.

 Hazrat Gesudaraz became a disciple of Shaikh Nasiruddin Mahmud Charag -i- Delhi. In 757 AH / 1356 AD the Khaja Banda Nawaz at the age of 36 years old Shaikh Nasiruddin Mahmud bestowed on him the permission to maintain his own circle of disciples (Khalifa). At the same year Hazrat Shaikh Nasiruddin fell seriously ill and died on 14th September 1356 AD.

At the age of fourty Khaja Banda Nawaz got married to Bi Bi Raza Khatun. He had has two sons and three daughters. Elder son Sayid Akbar Husayni and elder son Asgar Husayni. In 1398 AD Hazrat and his family reached to Daulatabad. When Sultan Firozshah Bahmani heard Gesudaraz arrival at Daualatabad. Tajuddin Ferozshah invited him to Gulbarga. Khaja Bandanawaz arrived Gulbarga in 1400 AD and lived for a period of 22 years. Firoz Shah Bahmani received him warmly and assigned a few villages for the expenses of his khanqah.

 

Khaja Gesudaraz was a scholar and poet..

Gesudaraz’s work can generally be divided into four categories.

a.       Commentaries b,

b.      Independent

c.       Discourse literature

d.      Miscellaneous

He wrote approximately more than 100 books, among them few famous works are mentioned below:

1.      Tafsir- al Multaqat

2.      Asmar -al- Asar

3.      Haja -ir- al – Quds

4.      Jawami -al- Kalim

5.      Anis -ul- Ushshaq

6.      Maktubat

7.      Mirajul Ashiqin

8.      Shikhar Nama

9.      Chakki Nama

 

It was at the Gulbarga that the first composition of old urdu were made by the great muslim saint of his time..

      The most outstanding Chishti Shaikh Nasirduddin Charag who had boldly defined the orders of Muhammad bin Tughlaq to migrate to Daulatabad and was spending his time in imparting moral and spiritual education to people who thronged to his Khanqah in large numbers. Gesudaraz also decided to join his spiritual discipline immediately after completing his education in external sciences (Ulum -i- Zahir) for years he served his master with single minded devotion and imbided from him the spirit of the Chishti Silsilah and a consuming concern for the moral and spiritual uplift of humanity.

The Khaja died at Gulbarga in 1422 AD of the several prose work and poems attributed to him the most important is Mirajul Ashiqeen a prose treature on mysticism.

Sunday, 5 July 2020

06 July in Our Indian History

*06 July* in *#Our_Indian_History*

*1763* Mir Jafer crowned again as Nawab of Bengal.

*1799* Maharaja Ranjit Singh captured Lahore.

*1943* Ras Bihari Bose made Netaji Subhash Chandra Bose as the commander of Indian National Army

*1944* Netaji addressed Mahatma Gandhi Ji with the title as *Father of the Nation* for the first time on Singapore Radio.

*06 جولائی* تاریخ ہند میں 

*1763* میر جعفر کی بنگال کے نواب کی حیثیت سے دوبارہ تاجپوشی ہوئی.

*1799* مہاراجہ رنجیت سنگھ نے لاہور پر قبضہ کر لیا.

*1943* راس بہاری بوس نے آزاد ہند فوج کی کمان نیتاجی سبھاش چندر بوس کو سونپی

*1944* نیتاجی نے سنگاپور ریڈیو پد پہلی دفعہ مہاتما گاندھی جی کو *بابائے قوم* کے نام سے خطاب کیا.

*06 जुलाई*

 *1763* मीर जाफर को बंगाल के नवाब के रूप में फिर से ताज पहनाया गया।

 *1799* महाराजा रणजीत सिंह ने लाहौर पर कब्जा किया।

 *1943* रास बिहारी बोस ने नेताजी सुभाष चंद्र बोस को भारतीय राष्ट्रीय सेना का कमांडर बनाया

 *1944* नेताजी ने सिंगापुर रेडियो पर पहली बार महात्मा गांधी जी को * राष्ट्रपिता * की उपाधि से संबोधित किया।

To join our other platforms please visit below links 
*OUR INDIAN HISTORY*

*YouTube* : https://www.youtube.com/channel/UC9v9dupwU4d0Cd7CHNvphrQ?view_as=subscriber
*Blogspot* : https://ourindianhistory712.blogspot.com/
*Facebook* : https://www.facebook.com/ourindianhistory712/
*Instagram* : https://www.instagram.com/ourindianhistory/
*Twitter* : https://twitter.com/our_indian
*Telegram* : https://t.me/ourindianhistory
*WhatsApp* : 9019934229 / 8884538516 

🤝🤝🤝🤝🤝🤝🤝🤝🤝

Wednesday, 1 July 2020

02 July in #Our_Indian_History

2 - July - 1757 Nawab Siraj - ud - Daula was captured and assassinated. He was stabbed with a knife by Muhammad Beg at the instance of Miran, son of Mir Zafar. Sirajudula was the last independent Nawab of Bengal. The end of his reign marked the start of British East India Company rule over Bengal and later almost entire South Asia.

2 ۔جولائ۔ 1757 نواب سراج الدولہ کو پکڑ کر قتل کردیا گیا۔ میر ظفر کے بیٹے میران کے کہنے پر محمد بیگ نے اس پر چاقو سے وار کیا تھا۔ سراج الدولہ بنگال کے آخری آزاد نواب تھے۔ ان کے دور حکومت کے خاتمے پر بنگال اور بعد میں تقریبا پورے جنوبی ایشیاء پر برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکمرانی کا آغاز ہوا۔

2 - जुलाई - 1757 नवाब सिराज - उद - दौला को पकड़ लिया गया और उसकी हत्या कर दी गई। मीर ज़फ़र के पुत्र मीरन के कहने पर मुहम्मद बेग द्वारा उस पर चाकू से वार किया गया था। सिराजुद्दौला बंगाल का अंतिम स्वतंत्र नवाब था। उनके शासनकाल के अंत में बंगाल और बाद में लगभग पूरे दक्षिण एशिया में ब्रिटिश ईस्ट इंडिया कंपनी के शासन की शुरुआत हुई।

To join our other platforms please visit below links 
*OUR INDIAN HISTORY*

*YouTube* : https://www.youtube.com/channel/UC9v9dupwU4d0Cd7CHNvphrQ?view_as=subscriber
*Blogspot* : https://ourindianhistory712.blogspot.com/
*Facebook* : https://www.facebook.com/ourindianhistory712/
*Instagram* : https://www.instagram.com/ourindianhistory/
*Twitter* : https://twitter.com/our_indian
*Telegram* : https://t.me/ourindianhistory
*WhatsApp* : 9019934229 / 8884538516 

🤝🤝🤝🤝🤝🤝🤝🤝🤝

تاریخ کے مطالعے کے ذرائع

تاریخ کا مطالعہ کرنے کے لیے ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ تاریخ کا وسیع علم کس طرح جمع اور پیش کیا جا رہا ہے۔  تاریخ کے مطالعہ کے...