Monday, 13 July 2020
#14_July in #Our_Indian_History
Thursday, 9 July 2020
Teachings of Banda Nawaz
Like every year, this year too, on
the 16th of Dhul-Qa'dah, the Annual Urs of Spritual Emperor of Deccan, Bandgi Makhdoom, Hazrat Khawaja
Banda Nawaz Gesu Daraz (may Allah have mercy on him) was celebrated. The
difference was that every year thousands of devotees would come to his holy
court and offer their gratitude, but this time no one was allowed except the family
of Banda Nawaz and servants of Dargah because of the contagious Corona virus.
But other devotees of Banda Nawaz paid homage and gratitude to him in their own
homes. In addition, a large number of people expressed their love through their
social media accounts. We have heard many times that Bandgi Makhdoom is one of
the founders of Urdu language and his teachings are preserved in more than 100
books. Apart from many virtues, this is his own distinction. Wasn't it the duty
of devotees of Banda Nawaz that along with celebrating Urs, we should follow
these teachings of our master and present them to the world? It is a pity that
the majority of the youth of the Ummah today are not only familiar with these
books but also do not know the names of 5-10 of these books, even if you
understand and follow the teachings and mysteries contained in them it will be a
true proof your love and by presenting these precious teachings to the world.
This year, the 616th Urs-e-Pak and
the date of his death, 16 Dhul-Qa'dah, 16 things from his treasury are presented
below. We hope readers will read and try to adopt and spread around the world:
1. There is a radiance and light in
the eternal ablution
2. Food that seekers of truth eat
and drink water, say Bismillah at least once every sip and every snack, some
even recite Surah Al-Fatihah in full at every bite
3. It is important for a Sufi who is asleep to
be aware of his existence
4. The place where the Shaikh sit
should also be respected and should not be sat on that place
5. Zikr-e-Khafi (Secret remembrance
of Almighty) is what is done from the heart
6. The good end and is the most
important of all campaigns and the most beloved of all
7. When the mirror of the heart is
cleansed from the rust of nature and the darkness of humanity, then it becomes
capable of accepting the unseen.
8. Wisdom is a precious thing for
men, but love is the thing that conquers the great forts and the high peaks of
the mountains. Wisdom says don't be in danger but love says don't care
9. The wealth and riches of the
world are like a flash of lightning and a moving shadow of a cloud. Lightning
sometimes flashes, sometimes sinks, sometimes comes, sometimes goes. What to do
with such a superstitious thing. What to sow in saline soil. There is no hope
of good or success in what is imprinted on the water!
10. The thing that should be sought
the most and the purpose which is the most beloved and important thing is
"knowledge of God". He who does not know himself does not know God
and falls into the cave of destruction
11. Prayer(Salath) is an act of
worship and recitation of the Qur'an is mustahab(beloved). But whoever performs
in impurity without ablution & bathing or recites the Qur'an deserves
punishment.
12. Self-purification is achieved by
eating less, sleeping less, talking less and meeting less
13. It is obligatory on
every Muslim man and woman to seek knowledge. If there is no action with
knowledge, then that knowledge is sterile (barren) and if there is no knowledge
with action, then that knowledge will be straight (sick).
14. From where to where the grace
and honor of the following of the Prophet (peace and blessings of Allah be upon
him) reach the ummah? From the garden of the people of Chisht who ate the
fruit, they ate from following.
15. Such an age has passed. What did
you get from those who continued to serve the self? Everything is possible and
close to you today, it will not happen tomorrow
16. Consider the few breaths of age
that are left as enogh booty and remove the heart from the unjust that is mortal
and reduce the meeting with meeting people.
(Reference: Sharh Adab Al-Muridin & Maktubaat
Sharif)
تعلیمات بندہ نواز
ہر سال کی طرح امسال بھی 16 ذی القعدہ کو شہنشاہ دکن ، بندگی مخدوم حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو دراز بلند پرواز رحمۃاللہ علیہ کا عرس پاک منایا گیا۔ فرق اتنا تھا کہ ہر سال ہزاروں عقیدتمند آپ کی بارگاہِ ناز میں حاضر ہوکراپنی غلامی پیش کرتے لیکن اس دفعہ موذی وبا کورونا وائرس کی وجہ سے سوائے خانوادہِ بندہ نواز اور خدام کے علاوہ کسی کو اجازت نہیں تھی۔ لیکن غلامان بندہ نواز نے اپنے اپنے گھروں پر آپ کی بارگاہ میں خراج عقید ت وغلامی پیش کیا۔ اس کے علاوہ بہت بڑی تعداد نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعہ اپنی غلامی کا اظہار کیا ۔ ہم نے بارہا سنا ہے کہ بندگی مخدوم اردو زبان کے بانیان میں سے ہیں اور آپ کی تعلیمات 100 سے زائد کتب میں محفوظ ہے یہ بہت سے فضائل کے علاوہ آپ ہی کا طرہ امتیاز ہے۔ کیا ٖغلامان بندہ نواز کا یہ فریضہ نہیں تھا کہ عرس پاک منانے کے ساتھ ہم اپنے آقا کی ان تعلیمات پر خودعمل کرتے اور کو دنیا کےسامنے پیش کرتے ۔ افسوس کہ آج نوجوانان امت کی اکثریت نہ تو ان کتب سے ہی واقف ہے بلکہ ان کتب کثیرہ میں سے 5-10 کتب کے نام سے بھی واقف نہیں ہے چہ جائیکہ ان میں موجود تعلیمات اور اسرار و معارف کو سمجھ کر ان پر عمل کرے اور ان بیش بہا قیمتی تعلیمات کو دنیا کے سامنے پیش کرکے اپنی حقیقی غلامی کا ثبوت دے۔
اس سال 616 ویں عرس پاک اور آپ کی تاریخ وفات 16 ذی القعدہ کی نسبت سے آپ کے خزینہِ تعلیمات سے 16 باتیں درج ذیل میں پیش کی جاتی ہیں امید ہے
کہ قارئین پڑھیں گے اور عمل کرکے عام
کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اپنی حقیقی غلامی کا ثبوت پیش کریں گے:
1. جو دائم باوضو رہتا ہے اس میں ایک چمک اور
روشنی ہوتی ہے
2.کھانا جو سالکین کھاتے ہیں اور پانی پیتے ہیں ،
ہر گھونٹ اور ہر نوالہ پر کم از کم ایک مرتبہ بسم اللہ کہتے ہیں ، بعض تو ہر لقمہ
پر سورہ فاتحہ پوری پڑھتے ہیں
3. صوفی جو نیند میں ہو اس کو یہ ضروری ہے کہ
اپنے وجود کی خبر ہونی چاہئے
4. جس مقام پر پِیر
بیٹھا کرتے ہیں اس مقام کا بھی احترام کرنا چاہئے اور اس جگہ پر نہیں بیٹھنا چاہئے
5. ذکر خفی اس
کو کہتے ہیں جو دل سے کیا جائے
6. حسن عاقبت
اور خاتمہ بالخیر تمام مہموں میں ایک اہم تر مہم
اور تمام مرادوں میں عزیز ترین مراد
ہے
7. جب آئینہ دل
طبیعت کے زنگ اور بشریت کی ظلمت سے پاک و صاف ہوجاتا ہے تو اس میں انوار غیبی کے
قبول کرنے کی صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے
8. عقل مردوں کے لئے ایک بیش قدر چیز ہے مگر عشق
وہ شئے ہے جو بڑے بڑے قلعے اور پہاڑوں کی اونچی اونچی چوٹیاں آناً فاناً میں فتح
کردیتا ہے۔ عقل کہتی ہے کہ خطرہ میں مت
پڑو مگر عشق کہتا ہے کہ تم پروا ہی مت کرو
9. دنیا کے جاہ و دولت اور مال و کمنت ایک بجلی کی
چمک اور بادل کے چلتے پھرتے سایہ کی طرح ہے ۔ بجلی کبھی چمکی کبھی ڈوبی ، کبھی آئی
، کبھی گئی اس کا کوئی اعتبار نہیں ۔ ایسی وہمی چیز سے کیا دل لگایا جائے ۔ کھاری
مٹی میں کیا بویا جائے۔ پانی پر کیا نقش جمایا جائے اس میں نہ بھلائی کی کوئی امید ہے اور نہ کامیابی کی!
10. وہ شئے جس
کی طلب سب سے زیادہ کرنی چاہئے اور وہ مقصد و مراد جو سب سے زیادہ پیاری اور اہم
شئے ہے "معرفت الٰہی " ہے۔ جس نے اپنے آپ کو نہیں پہچانا اس نے خدا کو
بھی نہیں پہچانا اور ہلاکت کے غار میں گِرا
11.نماز ایک
عبادت ہے اور تلاقت قرآن مستحب و مستحسن ہے ۔ لیکن جو کوئی بغیر نہائے ناپاکی میں
بے وضو پڑھے گا یا تلاوت قرآن کریگا عقوبت و عذاب کا مستحق ہوگا
12. تزکیہ نفس
کم کھانے ، کم سونے ، کم بولنے اور کم ملنے جلنے سے حاصل ہوتا ہے
13.ہر مسلمان
مرد و عورت پر علم کا طلب کرنا فرض ہے ، علم کے ساتھ اگر عمل نہ ہوتو وہ علم عقیم
(بانجھ) ہے اور اگر عمل کے ساتھ علم نہ ہو تو وہ علم سقیم (بیمار) ہوگا۔
14. آپ ﷺ کے
اتباع کے فضل و شرف نے امت کو کہاں سے کہاں تک پہنچادیا ۔اہل چشت کے اس باغ سے جس
نے پھل کھائے اتباع کرنے ہی سے کھائے
15. اس قدر عمر
گزر گئی ۔ نفس کی خدمت جو کرتے رہے اس سے کیا نقد نصیب ہوا۔ آج سب کچھ تمہارے لئے
ممکن اور قریب الوصول ہے کل یہ بات نہ ہوگی
16. عمر کی چند
سانسیں جو باقی رہ گئی ہیں انھیں غنیمت سمجھو اور غیر حق سے جو آنی و فانی ہے دل
کو ہٹالو اور لوگوں سے ملنا جلنا کم کردو۔
بحوالہ : شرح آداب المریدین و مکتوبات شریف) )
9th July in Our Indian History
بندگی مخدوم حضرت ابوالفتح صدرالدین سید محمدحسینی خواجہ گیسودرازبندہ نواز رحمۃ اللہ علیہ اور تصوف
چشتی
سلسلہ کی بر صغیر پاک و ہند میں ابتدا ء خواجہء خواجگان معین الدین سنجری اجمیری
رحمتہ اللّد علیہ کی پاک ذات سے ہوئی آپ کے جانشینوں نے سلسلہ چشتیہ کی ترویج و
اشاعت میں جو کوششیں فرمائیں وہ تاریخ کے
صفحات پر ثبت ہیں۔ آپ کےبعد مشائخ چشت میں نامور بزرگ سید محمد گیسودراز بندہ نواز نے
دکن کی سرزمین میں پہنچ کر اپنی روحانی
عظمتوں کا لوہا منوالیااور آپ کی ذات با برکت سے سلسلہ چشت کو دکن میں بڑا فر وغ حاصل ہوا اور الحمدللہ آج تک جاری ہے
اورآگے بھی اس سلسلہ کی برکات جاری و ساری ہونگی انشاءاللہ ۔تصوف سارے کا سارا
اخلاق عالیہ کا نام ہے صوفیہ کو اللہ تعالٰی نے باطن کی جو صفائی نصیب کی ہوتی ہے
اسکا عملی اظہار انکے اخلاق، کردار، رویہ، طرز زندگی اور انکے انداز معاشرت سے
ہوتا ہے۔ یہ انتہائی صالح وجود ہوتے ہیں۔ عفو و در گذر، محبت، صلہ رحمی یہ اولیا
کے وجود کا حصہ ہے۔ تصوف کا آغاز علم سے ہے اسکا درمیان عمل خالص جو کہ بندے کے
اختیار میں ہے اسکی انتہا اللہ کی جانب سے
نوازش و انعام جو کہ قرب الہی ہے۔
آپ صوفی باکمال تھے آپ فرماتے ہیں کہ صوفی کی نیند ایسی ہونی چاہیے جس کی نسبت وارد ہے کہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ میری آنکھیں سوتی ہیں اور میرا دل نہیں سوتا۔خواجہ صاحب فرمایا کرتے تھے کہ دنیا میں طلبگار قبر میں مردار اور آخرت میں شرمسارنہ ہونا۔(خاتمہ،ترجمہ آدالمریدین ص 92) آپ فرماتے ہیں کہ مرید کے لئے پیر سے غافل رہنا بڑی محرومی ہے۔ ایک مریدہر و قت پیر کی یاد میں مشغول رہے پیر کا نام ہر وقت زبان پر ہو پیر کی مجلس کو مجلس حق تصور کرے رفتار، گفتار، وضع قطع میں اس کا اتباع ضروری ہے۔ اسکا ایک حکم بجا لانے سے مریدایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے جہاں وہ سو سال کی عبادت سے نہیں پہنچ سکتاہے اور ایک مرید حقیقت و طریقت کو شریعت کی ضد نہ سمجھے۔ (یاذدہ ء رسائل ص 73)۔
اللہ ہم سب کو خواجہ گیسودراز کے صدقے کامل ایمان نصیب فرمائے۔ دنیا اور آخرت کی رسوائی سے بچائے عمل خالص عطا فرمائے ہر قسم کے شرک سے بچائے سرورکونین ﷺ کی سنتوں پر چلنے والا بنائے کہ سنت پر عمل سے مولا کی محبت ملتی ہے آخر میں دعا ہے کہ اے اللہ ہم دنیا میں رہیں لیکن دنیا ہمارے اندر نہ رہے۔ آمین
Wednesday, 8 July 2020
حضرت خواجہ بندہ نواز گیسودراز رحمۃاللہ علیہ 1321-1422ء
تعارف:
مسلم
مذہبی افکار پر فصاحت اور بلاغت سے بیان کرنے میں ان کی شراکت کی وجہ سے حضرت
گیسودراز ، چشتی سلسلہ کی تاریخ میں انوکھے مقام پر فائز ہیں۔ انہوں نے دکن میں دینی علوم کو ایک نئی نوید عطا کی۔ حضرت
دکن میں اسلامی عرفان کی ابتدائی تاریخ کی سب سے نمایاں شخصیت ہیں ۔
خواجہ
بندہ نواز صدرالدین ابوالفتح سید محمد حسینی المعروف گیسودراز کی ولادت با سعادت 30 جنوری 1321 ء بمطابق 4 رجب
721 ہجری کو ہوئی ۔
خراسان
میں آپ کے آباو اجداد "لمبے بالوں والے سید" کے نام سے مشہور تھے۔ اس طرح انہوں نے ہندوستان میں بھی گیسو دراز (لفظی معنی لمبےبالوں والے ) کی کنیت برقرار رکھی۔ حضرت کو
بندہ نواز کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
جب
محمد بن تغلق نے اپنا دارالحکومت دہلی سے دولت آباد میں سن 1327 ء میں منتقل کیا۔
حضرت گیسودراز کو بھی 7 سال کی عمر میں
دولت آباد لے جایا گیا ۔
آپ
کے والد سید یوسف حسینی کا انتقال سن 1330 ء / 731 ھ میں ہوا جب حضرت گیسودراز صرف
10 سال کے تھے۔ کچھ زمانے کے بعد وہ اپنے اہل خانہ سمیت دہلی واپس آگئے۔
حضرت
گیسودراز نے شیخ نصیرالدین محمود چراغ دہلوی
کے ارادت اختیار فرمائی ۔ 757 ھ / 1356 ء
میں خواجہ بندا نواز نے 36 سال کی عمر میں شیخ نصیرالدین محمود سے اجازت و خلافت
پائی ۔ اسی سال حضرت شیخ نصیرالدین شدید بیمار ہوئے اور 14 ستمبر 1356 ء کو وفات پائی۔
چالیس
سال کی عمر میں خواجہ بندہ نواز نےسیدہ بی بی رضا خاتون سے نکاح فرمایا ۔ آپ کے دو بیٹے اور
تین بیٹیاں تھیں۔بڑے بیٹے سید اکبر حسینی اور چھوٹے بیٹاےسید اصغر حسینی تھے۔ سنہ 1398 ء میں حضرت اور آپ کے اہل خانہ دولت
آباد پہنچے۔ جب سلطان فیروزشاہ بہمنی نے خواجہ گیسودراز کی دولت آبادآمد کا سناتو تاج الدین فیروز شاہ نے آپ کو گلبرگہ میں مدعو کیا۔ خواجہ بندہ نواز 19 مئی
1400 ء کو گلبرگہ پہنچے جس وقت آپ کی عمر شریف قریب 80 برس
تھی ، اور 22 سال تک یہاں قیام فرمایا۔
فیروز
شاہ بہمنی نے ان کا والہانہ استقبال کیا اور اپنی خانقاہ کے اخراجات کے لئے کچھ
گاؤں تفویض کردیئے۔
خواجہ
گیسودراز ایک بلند پایہ عالم اور شاعر تھے
گیسودراز کی تصانیف کو عام طور پر
چار قسموں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔
الف : شروحات ،
ب: آزادانہ کتب
پ: ادبی کتب
ت: متفرقات
آپ نے تقریباً 100 سے زائد کتابیں تحریر فرمائیں جن میں سے
چند مشہور کتب درگ ذیل ہیں :
1. تفسیر الملتقط
2. اسمار الآسار
3.
حجائرالقدس
4. جوامع الکلم
5. انیس العاشقاں
6. مکتوبات
7. معراج العاشقین
8. شیکھر نامہ
9. چکی نامہ
آپ نے متعدد نثروں کی تصنیف کی اور ان کی منسوب نظموں میں سب سے اہم معراج العاشقین ہے جو تصوف پر ایک عظیم خزانہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ گلبرگہ ہی تھا کہ قدیم اردو کی پہلی مرتب اپنے وقت کے عظیم مسلمان صوفی نے پیش کی تھی۔
انتہائی
قابل ذکر چشتی بزرگ شیخ نصیرالدین چراغ
دہلوی جنہوں نے محمد بن تغلق کے دولت آباد ہجرت کے
احکامات کی تعریف کی تھی اور وہ ان لوگوں کو اخلاقی اور روحانی تعلیم فراہم کرنے
میں صرف کررہے تھے جو بڑی تعداد میں ان کے خانقاہ پر گامزن تھے۔ خواجہ گیسودراز نے
علوم ظاہری کی تکمیل کے بعد آپ کی صحبت اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ۔ اور برسوں تک
اپنی پیر کامل کی خدمت انجام دی اور آپ سےچشتیہ سلسلہ کے روحانی فیوض و برکات حاصل
فرمائی اور انسانیت کی روحانی بلندی کے لئے اپنی زندگی کو وقف فرمادیا۔
خواجہ بندہ نواز 1422ء بمطابق 825ھ میں گلبرگہ شریف میں واصل حق تعالیٰ ہوئے ، مزار پر انوار آج بھی مرجع خلائق بنا ہوا ہے۔
Hazrat Khaja Banda Nawaz Gesu Daraz 1321-1422 AD
Introduction:
Hazrath Gesudaraz occupies unique places in the
history of the Chishti silsilah on account of his contribution to the
elucidation and exposition on Muslim religious thought. He gave a new filling
to religious studies in the Deccan. One of the most prominent figure in the
early history of Islamic mystic in the Deccan
Khaja Banda Nawaz Sadruddin Abul
Fateh Syed Muhammad Hussaini popularly known as Gesu Dararaz born on 30th
July 1321 AD / 4th Rajab 721 AH.
His ancestors in
Khurasan were popularly known as the “Sayyids with long locks”. Thus he
retained his surname of Gesudaraz (literally long locks) in India also.
Hazrat also known as Bandanawaz (one who
comforts other human beings).
When Muhammad
bin Tughluq transferred his capital from Delhi to Daulatabad in the year 1327
A.D. Gesudaraz was also taken to Daulatabad at the age of 7 years and brought
there.
His father
Sayyid Yusuf Husayni died in the year 1330 AD / 731 AH when Hazrat Gesudaraz
was only 10 years old. After some time he returned to Delhi along with his
family.
Hazrat Gesudaraz became a disciple of Shaikh
Nasiruddin Mahmud Charag -i- Delhi. In 757 AH / 1356 AD the Khaja Banda Nawaz
at the age of 36 years old Shaikh Nasiruddin Mahmud bestowed on him the
permission to maintain his own circle of disciples (Khalifa). At the same year
Hazrat Shaikh Nasiruddin fell seriously ill and died on 14th
September 1356 AD.
At
the age of fourty Khaja Banda Nawaz got married to Bi Bi Raza Khatun. He had has two sons and three
daughters. Elder son Sayid Akbar Husayni and elder son Asgar Husayni. In 1398
AD Hazrat and his family reached to Daulatabad. When Sultan Firozshah Bahmani
heard Gesudaraz arrival at Daualatabad. Tajuddin Ferozshah invited him to
Gulbarga. Khaja Bandanawaz arrived Gulbarga in 1400 AD and lived for a period
of 22 years. Firoz Shah Bahmani received him warmly and assigned a few villages
for the expenses of his khanqah.
Khaja Gesudaraz
was a scholar and poet..
Gesudaraz’s work
can generally be divided into four categories.
a. Commentaries
b,
b. Independent
c. Discourse
literature
d. Miscellaneous
He wrote
approximately more than 100 books, among them few famous works are mentioned
below:
1. Tafsir-
al Multaqat
2. Asmar
-al- Asar
3. Haja
-ir- al – Quds
4. Jawami
-al- Kalim
5. Anis
-ul- Ushshaq
6. Maktubat
7. Mirajul
Ashiqin
8. Shikhar
Nama
9. Chakki
Nama
It was at the
Gulbarga that the first composition of old urdu were made by the great muslim saint
of his time..
The most outstanding Chishti Shaikh
Nasirduddin Charag who had boldly defined the orders of Muhammad bin Tughlaq to
migrate to Daulatabad and was spending his time in imparting moral and spiritual
education to people who thronged to his Khanqah in large numbers. Gesudaraz
also decided to join his spiritual discipline immediately after completing his
education in external sciences (Ulum -i- Zahir) for years he served his master
with single minded devotion and imbided from him the spirit of the Chishti
Silsilah and a consuming concern for the moral and spiritual uplift of
humanity.
The Khaja died at Gulbarga in 1422 AD of the several prose work and poems attributed to him the most important is Mirajul Ashiqeen a prose treature on mysticism.
تاریخ کے مطالعے کے ذرائع
تاریخ کا مطالعہ کرنے کے لیے ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ تاریخ کا وسیع علم کس طرح جمع اور پیش کیا جا رہا ہے۔ تاریخ کے مطالعہ کے...
-
Introduction: Hazrath Gesudaraz occupies unique places in the history...
-
To study history we need to know how the vast knowledge of history is being collected and presented. There are basically two sou...
-
تاریخ کیا ہے؟ ویڈیو لنک: تاریخ: تاریخ کا لفظ یونانی لفظ استوریہ سے ماخوذ ہے جس کا معنی ہے تحقیق۔ وسیع معنوں میں تاریخ بنی نوع انسان کی ا...



